اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، پاکستان کے صحافی اور سیاسی تجزیہ کار عبداللہ گل نے نیوز چینل ’’ہم نیوز‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کے لیے ایران کی شرائط ایک جائز بنیاد رکھتی ہیں اور ان پر عمل درآمد کے بغیر خطے میں پائیدار امن و استحکام ممکن نہیں۔
انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر کہ مذاکرات حتمی مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور آبنائے ہرمز جلد کھول دیا جائے گا، کہا کہ آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمد و رفت جاری رکھنے کے لیے امریکہ کو پابندیاں کم کرنا ہوں گی اور ایران کی جانب سے پیش کردہ راستوں اور شرائط کو قبول کرنا ہوگا۔
پاکستانی تجزیہ کار نے آبنائے ہرمز کی تزویراتی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس آبی گزرگاہ پر ایران کا کنٹرول ایک حقیقت ہے۔ امریکی جنگی بحری جہازوں کی موجودگی بھی اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ بحری جہاز بلا رکاوٹ آمد و رفت جاری رکھ سکیں گے۔
عبداللہ گل نے مزید کہا کہ کسی بھی میزائل یا ڈرون حملے کے نتیجے میں بحری جہازوں کی آمد و رفت رک سکتی ہے اور حتیٰ کہ ایک جہاز کے حادثے سے بھی اس کے پیچھے موجود درجنوں جہازوں کی نقل و حرکت متاثر ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے بحران کے آغاز ہی میں امریکہ کو اس صورتحال کے ممکنہ نتائج سے خبردار کر دیا تھا اور آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے تہران کی موجودہ شرائط دراصل اسی فریم ورک کا حصہ ہیں جو اس سے قبل مذاکرات میں بھی پیش کیا جا چکا ہے۔
عبداللہ گل نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان حالیہ دفاعی معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی دباؤ اور عرب ممالک کے بدلتے ہوئے مؤقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اب پہلے کی طرح خطے پر اپنی شرائط مسلط کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ واشنگٹن کے پاس معاہدے تک پہنچنے اور آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے محدود راستے باقی رہ گئے ہیں، جبکہ خطے کی بدلتی صورتحال اور عرب ممالک کے مؤقف نے امریکہ کے لیے فیصلہ سازی کی گنجائش مزید محدود کر دی ہے۔
آپ کا تبصرہ